Sunday, 11 January 2026

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga





 غزل 

میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا 

در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا 


نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم

دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا


جب عدالت میں منصف ہی بکنے لگے 

 مدَّعَا اپنا  لے کر کدھر جاؤں گا 


در گزر کر خطا میں بھی انسان ہوں 

تھوڑی مہلت دے مجھ کو سدھر جاؤں گا 


مجھ کو دعویٰ کہاں پارسائی کا ہے 

راہ حق پر چلا تو سنور جاؤں گا



مجھ سے مت چھین اے دشمن جاں قلم 

جیتے جی اس سزا سے میں مر جاؤں گا 


اے رفیق اب شریفوں سے لگتا ہے ڈر

ان شریفوں میں رہ کے بگڑ جاؤں گا 

محب اللہ رفیق

Gazal: Dilkash Fasane se keya Fayeda

 




غزل

میرے دل کش فسانے سے کیا فائدہ 

ایسے قصے سنانے سے کیا فائدہ 


تونے وعدہ کیا جو نبھایا نہیں 

اب بہانا بنانے سے کیا فائدہ 


مانا سکھ اور دکھ ہیں یہ ساتھی تو پھر 

جشن و ماتم منانے سے کیا فائدہ 


تیرگی جس سے نفرت کی جائے نہیں

دیپ ایسے جلانے سے کیا فائدہ


مل سکے جو نہ دل تو بتاؤ کہ پھر

ہاتھ یونہی ملانے سے کیا فائدہ 


جب گناہوں پہ کوئی ندامت نہیں 

ایسے آنسو بہانے سے کیا فائدہ 

محب اللہ رفیق

Gadhe ki Faryad (Khaka)

 گڑھے کی فریاد

فاطمہ چک ایک چھوٹا سا مگر تعلیم یافتہ گاؤں جس کے وسط میں واقع ایک قدیم گڑھا جو اپنے اندر پورے گاؤں کی تاریخ کو چھپائے سموئے اور دامن میں سمیٹے رکھا ہے۔ جب میں اس کے کنارے کھڑا ہو کر اس سے پوچھ رہا تھا:


اے میرے بچپن کا گڑھا تو بتا تونے تو ایک زمانہ دیکھا ہے کئی پشتوں کو پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ بچوں کو بڑا بڑوں کو بوڑھا تو نوزائدہ کو دوڑتے پھرتے ہوئے ضعیف العمری کے ساتھ مرتے بھی دیکھا ہے۔ تیرا دامن تو بہت وسیع تھا۔ ہم گاؤں کے بچے اپنے اپنے گھروں سے بطخ اور اس کے چوزے کو دوڑاتے ہوئے بڑے پیار سے تیرے دامن میں اچھالتے تھے اور تو اسے چھپاک سے اپنے مخملی گود میں لے لیتا تھا۔ پھر وہ پورے دن اس میں تیرتا ہوا اپنا رزق تلاش کرتا اور پورے لمبے چوڑے گڑھے میں موج مستی کرتا ہوا جدھر چاہتا اپنی ماں کے ساتھ گھومتا پھرتا تھا۔ مسجد میں اذان ہوتی تو نماز کے لیے آتے جاتے لوگ تجھے پانچوں وقت دیکھتے رہتے تھے۔ پھر تو اتنا کیوں سکڑگیا۔ ارے تو تو پورے گاؤں میں بکھرے سڑکوں کے پانی کو بھی جذب کر جاتا تھا پھر بھی نہیں اپٹتا تھا اب اتنا سوکھ کیسے گیا۔ کیا تجھ میں اب فراخ دلی نہیں رہی ہے یا تو بھی بخیلوں کا سردار ہو گیا۔


اس پر گڑھے کے جواب نے مجھے بہت متاثر کیا- کاش کوئی اس کا درد سمجھ سکتا۔ اس نے بڑی نرمی سے جواب دیا:

 میں آج بھی وسیع ہوں آج بھی میں اپنے اندر گاؤں کے سارے نالے نالیوں کے پانی کو اپنے شکم میں بھر سکتا ہو۔ میں اب صرف کاغذ کے ٹکڑوں پر ہی ہوں جس زمین کے نقشے کو لوگ اپنی تجوری میں رکھتے ہیں اسی نقشے پر آج بھی میں ویسے ہی وسیع عریض ہوں جیسا تو مجھ سے کہہ رہا ہے۔ تو سننا چاہتا ہے تو سن! 

لوگ آپس میں زمین کے لیے لڑتے ہیں یہاں تو لوگوں نے میرے ہی حصے بکھرے کر دیے۔ اس پر بھی جی نہیں بھرا تو مقدمہ بھی کر دیا۔ یہ تو بھلا ہو اس گاؤں ان چند خیرخواہ لوگوں کا جن کو مجھ سے محبت اور گاؤں کی ضرورت کا احساس تھا انھوں نے میرا کیس لڑا اور وہ جیت بھی گئے۔ عدالت سے مجھے انصاف بھی ملا اور مجھے مکمل طور پر آزادی کے ساتھ باہیں پھیلائے اور کشادگی لیے بھی زمین پر رہنے کا موقع ملا۔ میں کتنا کشادہ ہوں اس کا ثبوت گاؤں میں موجود نقشے سے پوچھ لو۔ گاؤں کے قدیم لوگوں سے پوچھ لو اور ان سے بھی چاہوں تو پوچھ لو جس نے میرا مقدمہ لڑ کر مجھے جیت دلائی۔


مگر ایک دن ایسا آیا کہ کچھ لوگوں کی پھر نیت خراب ہوئی اور مجھ پر قبضہ جمانا شروع کیا اور اب یہ قبضہ کسی ایک جانب سے نہیں تھا بلکہ تعلیم یافتہ فاطمہ چک کے ان تمام لوگوں کی جانب سے تھا جو میرے ارد گرد آباد ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ میرے ایک جانب علم سے محبت رکھنے والے لوگوں نے بچوں کی تعلیم کے لیے مکتبہ کی زمین جو کہ 3 ڈس مل ہے مختص کیا جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہے مگر باقی سب نے مجھ پر صرف قبضہ ہی کیا ہے وہ بھی ناجائز قبضہ، جس سے مجھے بھی بہت تکلیف ہوتی ہے جب کوئی مجھے طعنہ دیتا ہے کہ تو فراخ دل سے اتنا کنجوس کیسے ہو گیا اور کس طرح سمٹ گیا۔


زخم خوردہ اس گڑھے نے تو یہ کہنے میں بھی تکلف سے کام نہیں لیا کہ اب اس گاؤں کے کچھ لالچی، حریص اور مفاد پرست لوگ تو اس حد تک گر گئے ہیں کہ جس راستے پر چلتے ہیں اسے بھی نہیں چھوڑا اس پر بھی اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا ہے۔ صاف صفائی کا کیا پوچھنا سڑکوں کو گندہ اور خراب رکھنا گویا اس کی عادت سی ہو گئی ہے۔ کہاں راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا صدقہ کہنے والے اب راستہ مسدود کردینے پر تلے ہیں۔ خیر مجھے ان سب باتوں سے کیا لینا مگر میں ایک بار پھر کہوں گا خدا را مجھے آزاد کرو اور اس ناجائز قبضے سے مجھے چھٹکارا دلاؤ یا پھر میرا قصہ تمام کرو۔ مجھے ہی ختم کر ڈالو۔۔میں بہت پریشان ہوں یہ ستم اور تکلیف دہ گھٹن سے نجات چاہتا ہوں۔


میں نے کہا: 

بات تو تمہاری درست ہے تمہاری تکلیف کو میں ہی کیا گاؤں کے بیشتر لوگ محسوس کرتے ہیں۔ سبھی چاہتے ہیں تیری آزادی کہ اس میں خود ان کی بھی بھلائی ہے مگر کوئی کچھ کر نہیں پاتا کس کی کیا مجبوری ہے خدا جانے لیکن سنا ہے خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں! دیر سویر یہ قضیہ حل ہوگا۔

راقم: محب اللہ رفیق

Wednesday, 15 October 2025

Muqabla Momin kis Shan

 

مقابلہ مومن کی شان 

اس وقت اہل ایمان کے سامنے کئی محاذ پر مقابلہ آ رائی ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کا ہر فرد بیدار ہو اور اپنے اپنے حصہ کا کام انجام دے اپنی ذاتی تربیت ہو کہ معاشرتی مسائل ہر جگہ اپنے ایمان کو ٹٹولیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سے اللہ کی کوئی ایسی نافرمانی اور مسلسل نافرمانی ہو رہی ہو جو غضب الہی کو دعوت دیتی ہو اور ہم اس عذاب کے شکار ہیں. یا پھر اللہ کی طرف سے آزمائش ہے.

یہ بات بھی ذہن نشیں رہے کہ ایمان اور بزدلی ایک دل میں جمع ہو ممکن نہیں. اور حکمت و مصلحت کی چادر اتنی بھی نہ تان لی جائے کہ گھٹ گھٹ کر دم ہی نکل جائے. حالات کا ہر طرح سے مقابلہ مومن کا شیوہ ہے.


یاد رہے کہ مومن کا معاملہ تو صبر اور شکر کا ہے ہمیں مصائب میں ڈٹ کر صبر و استقامت کے ساتھ اپنے ایمان کی حفاظت کرنی ہے اس کے لیے ہمیں جان و مال کی قربانی دینی پڑے تو ہم ہر وقت اس کے لیے تیار ہوں اور خوشی کا موقع ہو تو اظہار تشکر پیش کرتے ہوئے ہر آن اپنے رب عبادت و اطاعت میں گزاریں.

اللہ تعالیٰ ہمیں حسن عمل کی توفیق بخشے. آمین

محب اللہ قاسمی

Monday, 18 August 2025

 نعت کچھ نہیں نصیحت بھی

دلوں میں عزم ہو، اور ہو، حمیت بھی

بگاڑ پائے گی کیا، فوج کی، اکثریت بھی

                            ہمیں تو انس و محبت ہے، دین آقا سے

ہے دین کامل و اکمل یہی شریعت بھی

میں دور رہ کے مدینے سے کیا سکوں پاؤں

ہیں بھیگی بھیگی سی آنکھیں، تھکی طبیعت بھی

                            ہر ایک بات مرے مصطفی کی یکتا ہے

’شگفتگی بھی ہے، تاثیر بھی، بصیرت بھی‘

جو منصبوں کی لڑائی میں ہیں سبھی قائد

تو سرخ رو رہے کیسے بھلا جمعیت بھی

                            بدلنا ہی نہیں چاہے رفیقؔ جب کوئی

تو بے اثر ہے ہر اک ڈانٹ بھی نصیحت بھی

محب اللہ رفیق قاسمی 

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga

 غزل  میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا  در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا  نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا جب ع...