غزل
میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا
در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا
نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم
دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا
جب عدالت میں منصف ہی بکنے لگے
مدَّعَا اپنا لے کر کدھر جاؤں گا
در گزر کر خطا میں بھی انسان ہوں
تھوڑی مہلت دے مجھ کو سدھر جاؤں گا
مجھ کو دعویٰ کہاں پارسائی کا ہے
راہ حق پر چلا تو سنور جاؤں گا
مجھ سے مت چھین اے دشمن جاں قلم
جیتے جی اس سزا سے میں مر جاؤں گا
اے رفیق اب شریفوں سے لگتا ہے ڈر
ان شریفوں میں رہ کے بگڑ جاؤں گا
محب اللہ رفیق


