Wednesday, 19 February 2020

Sheen Baagh hai







شاہین باغ



ظلمت میں جل رہا دیا شاہین باغ ہے

شیطان جس سے ہے خفا شاہین باغ ہے



مطلب سمجھ میں آگیا شاہین کاہمیں

ہر شہر اور ہر جگہ شاہین باغ ہے



ٹکرانے ظلم و جبر سے نکلی ہیں دادیاں

اس وقت حق کا اک دیا شاہین باغ ہے



قانون لے کے آئے وہ آئین کے خلاف

آئین کیلئے کھڑا شاہین باغ ہے



بدلاؤ کیوں نہ آئے گا اس وقت اے رفیق

اک جوش ایک ولولہ شاہین باغ ہے



محب اللہ رفیقؔ قاسمی


No comments:

Post a Comment

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga

 غزل  میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا  در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا  نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا جب ع...