Thursday, 27 August 2020

Ghazal: Kharch Kardiya Jaye



غزل

جرم جس کا ثابت ہو جرم ہی کہا جائے
جس قدر بھی واجب ہو قید میں رکھا جائے

مسئلہ جو حق کا ہو بر ملا کہا جائے
بھول کو بزرگوں کی بھول ہی کہا جائے

رہبران ملت تو عیش میں ہیں اے لوگو!
کس کو کیا کہا جائے، کس سے کیا سنا جائے

عدل تو ضروری ہے مسئلہ کسی کاہو
بے رعایتِ بے جا فیصلہ کیا جائے

بھوکے رہ کے روزے میں ہم نے یہ بھی جانا ہے
بے دریغ بھوکوں پر خرچ کر دیا جائے

جو جہاد کی شمعیں جل رہی تھیں ماضی میں
کیوں نہ اے رفیقؔ ان کو جگمگا دیا جائے

محب اللہ رفیقؔ قاسمی

No comments:

Post a Comment

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga

 غزل  میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا  در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا  نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا جب ع...