Tuesday, 22 June 2021

Mumkin Nahi Khayal Yahan ho Wahan na ho


کلام اور آواز محب اللہ رفیق قاسمی سورج نہ ہو، یہ چاند نہ ہو،آسماں نہ ہو کافی خدا ہے، چاہے یہ سارا جہاں نہ ہو احساں جتا نے والوں سے لازم ہے فاصلہ کم ظرف سا جہاں میں کوئی مہرباں نہ ہو تو چاہتا ہے چھوڑ دوں تنقید اس لیے مجھ سے امیر شہر کہیں بدگماں نہ ہو کھویا ہوا ہوں اس کے ہی فکروخیال میں 'ممکن نہیں خیال یہاں ہو وہاں نہ ہو' بے نورمحفلیں ہیں اوربے رنگ ہے چمن ہر شے فضول ہے وہ اگر گل فشاں نہ ہو ظلم و ستم کو مجھ کو مٹانا ہے اے رفیق! مجھ کوغرض نہیں کہ فلاں ہو فلاں نہ ہو
محب اللہ رفیق قاسمی
Mohibbullah Rafique Qamsmi

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga

 غزل  میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا  در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا  نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا جب ع...