Sunday, 11 January 2026

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga





 غزل 

میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا 

در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا 


نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم

دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا


جب عدالت میں منصف ہی بکنے لگے 

 مدَّعَا اپنا  لے کر کدھر جاؤں گا 


در گزر کر خطا میں بھی انسان ہوں 

تھوڑی مہلت دے مجھ کو سدھر جاؤں گا 


مجھ کو دعویٰ کہاں پارسائی کا ہے 

راہ حق پر چلا تو سنور جاؤں گا



مجھ سے مت چھین اے دشمن جاں قلم 

جیتے جی اس سزا سے میں مر جاؤں گا 


اے رفیق اب شریفوں سے لگتا ہے ڈر

ان شریفوں میں رہ کے بگڑ جاؤں گا 

محب اللہ رفیق

No comments:

Post a Comment

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga

 غزل  میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا  در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا  نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا جب ع...