گڑھے کی فریاد
فاطمہ چک ایک چھوٹا سا مگر تعلیم یافتہ گاؤں جس کے وسط میں واقع ایک قدیم گڑھا جو اپنے اندر پورے گاؤں کی تاریخ کو چھپائے سموئے اور دامن میں سمیٹے رکھا ہے۔ جب میں اس کے کنارے کھڑا ہو کر اس سے پوچھ رہا تھا:
اے میرے بچپن کا گڑھا تو بتا تونے تو ایک زمانہ دیکھا ہے کئی پشتوں کو پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ بچوں کو بڑا بڑوں کو بوڑھا تو نوزائدہ کو دوڑتے پھرتے ہوئے ضعیف العمری کے ساتھ مرتے بھی دیکھا ہے۔ تیرا دامن تو بہت وسیع تھا۔ ہم گاؤں کے بچے اپنے اپنے گھروں سے بطخ اور اس کے چوزے کو دوڑاتے ہوئے بڑے پیار سے تیرے دامن میں اچھالتے تھے اور تو اسے چھپاک سے اپنے مخملی گود میں لے لیتا تھا۔ پھر وہ پورے دن اس میں تیرتا ہوا اپنا رزق تلاش کرتا اور پورے لمبے چوڑے گڑھے میں موج مستی کرتا ہوا جدھر چاہتا اپنی ماں کے ساتھ گھومتا پھرتا تھا۔ مسجد میں اذان ہوتی تو نماز کے لیے آتے جاتے لوگ تجھے پانچوں وقت دیکھتے رہتے تھے۔ پھر تو اتنا کیوں سکڑگیا۔ ارے تو تو پورے گاؤں میں بکھرے سڑکوں کے پانی کو بھی جذب کر جاتا تھا پھر بھی نہیں اپٹتا تھا اب اتنا سوکھ کیسے گیا۔ کیا تجھ میں اب فراخ دلی نہیں رہی ہے یا تو بھی بخیلوں کا سردار ہو گیا۔
اس پر گڑھے کے جواب نے مجھے بہت متاثر کیا- کاش کوئی اس کا درد سمجھ سکتا۔ اس نے بڑی نرمی سے جواب دیا:
میں آج بھی وسیع ہوں آج بھی میں اپنے اندر گاؤں کے سارے نالے نالیوں کے پانی کو اپنے شکم میں بھر سکتا ہو۔ میں اب صرف کاغذ کے ٹکڑوں پر ہی ہوں جس زمین کے نقشے کو لوگ اپنی تجوری میں رکھتے ہیں اسی نقشے پر آج بھی میں ویسے ہی وسیع عریض ہوں جیسا تو مجھ سے کہہ رہا ہے۔ تو سننا چاہتا ہے تو سن!
لوگ آپس میں زمین کے لیے لڑتے ہیں یہاں تو لوگوں نے میرے ہی حصے بکھرے کر دیے۔ اس پر بھی جی نہیں بھرا تو مقدمہ بھی کر دیا۔ یہ تو بھلا ہو اس گاؤں ان چند خیرخواہ لوگوں کا جن کو مجھ سے محبت اور گاؤں کی ضرورت کا احساس تھا انھوں نے میرا کیس لڑا اور وہ جیت بھی گئے۔ عدالت سے مجھے انصاف بھی ملا اور مجھے مکمل طور پر آزادی کے ساتھ باہیں پھیلائے اور کشادگی لیے بھی زمین پر رہنے کا موقع ملا۔ میں کتنا کشادہ ہوں اس کا ثبوت گاؤں میں موجود نقشے سے پوچھ لو۔ گاؤں کے قدیم لوگوں سے پوچھ لو اور ان سے بھی چاہوں تو پوچھ لو جس نے میرا مقدمہ لڑ کر مجھے جیت دلائی۔
مگر ایک دن ایسا آیا کہ کچھ لوگوں کی پھر نیت خراب ہوئی اور مجھ پر قبضہ جمانا شروع کیا اور اب یہ قبضہ کسی ایک جانب سے نہیں تھا بلکہ تعلیم یافتہ فاطمہ چک کے ان تمام لوگوں کی جانب سے تھا جو میرے ارد گرد آباد ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ میرے ایک جانب علم سے محبت رکھنے والے لوگوں نے بچوں کی تعلیم کے لیے مکتبہ کی زمین جو کہ 3 ڈس مل ہے مختص کیا جو باقاعدہ رجسٹرڈ ہے مگر باقی سب نے مجھ پر صرف قبضہ ہی کیا ہے وہ بھی ناجائز قبضہ، جس سے مجھے بھی بہت تکلیف ہوتی ہے جب کوئی مجھے طعنہ دیتا ہے کہ تو فراخ دل سے اتنا کنجوس کیسے ہو گیا اور کس طرح سمٹ گیا۔
زخم خوردہ اس گڑھے نے تو یہ کہنے میں بھی تکلف سے کام نہیں لیا کہ اب اس گاؤں کے کچھ لالچی، حریص اور مفاد پرست لوگ تو اس حد تک گر گئے ہیں کہ جس راستے پر چلتے ہیں اسے بھی نہیں چھوڑا اس پر بھی اپنا قبضہ جمانا شروع کر دیا ہے۔ صاف صفائی کا کیا پوچھنا سڑکوں کو گندہ اور خراب رکھنا گویا اس کی عادت سی ہو گئی ہے۔ کہاں راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا صدقہ کہنے والے اب راستہ مسدود کردینے پر تلے ہیں۔ خیر مجھے ان سب باتوں سے کیا لینا مگر میں ایک بار پھر کہوں گا خدا را مجھے آزاد کرو اور اس ناجائز قبضے سے مجھے چھٹکارا دلاؤ یا پھر میرا قصہ تمام کرو۔ مجھے ہی ختم کر ڈالو۔۔میں بہت پریشان ہوں یہ ستم اور تکلیف دہ گھٹن سے نجات چاہتا ہوں۔
میں نے کہا:
بات تو تمہاری درست ہے تمہاری تکلیف کو میں ہی کیا گاؤں کے بیشتر لوگ محسوس کرتے ہیں۔ سبھی چاہتے ہیں تیری آزادی کہ اس میں خود ان کی بھی بھلائی ہے مگر کوئی کچھ کر نہیں پاتا کس کی کیا مجبوری ہے خدا جانے لیکن سنا ہے خدا کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں! دیر سویر یہ قضیہ حل ہوگا۔
راقم: محب اللہ رفیق
No comments:
Post a Comment