Saturday 21 April 2018

Ghazal : Huffaz Shahidon pe jo kuch bhi hua kuch bhi nahi hai


 غزل


ایمان کی دولت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے
راضی جو نہیں رب تو بھلا کچھ بھی نہیں ہے 


دنیا میں سکوں، عقبی میں توقیر کی چاہت
ایمان نہیں ہے تو ملا کچھ بھی نہیں ہے



ہر درد جہاں کی ہے دوا، دین نبیؐ میں
اس کے سوا دنیا میں دوا کچھ بھی نہیں ہے 



تم کو  تو  ملالہ کا بڑا رنج ہے لیکن
خفاظ پہ جو کچھ بھی ہوا کچھ بھی نہیں ہے



فرعون تو غرقاب ہوا تو بھی مٹے گا
قاتل کہیں بچوں کا بچا کچھ بھی نہیں ہے



غیرت نے پکارا ہے کہ میدان میں آؤ
جینے کا مزہ اس کے سوا کچھ بھی نہیں ہے



ظلمت کو مٹانا ہے تو جل شمع کے مانند
ظلمات کے شکوے سے ملا کچھ بھی نہیں ہے


ظالم تو مٹانے پہ تلے ہیں ہمیں لیکن
ظالم کو مٹانے کی صدا کچھ بھی نہیں ہے



مولی کی رضا پر ہی چلو تم بھی رفیق اب
منزل ہے وہی اس کے سوا کچھ بھی نہیں
 محب اللہ رفیقؔ



Wednesday 18 April 2018

Han main Syed Muhammad Wali Rahmani Hun.



*ہاں میں سید محمد ولی رحمانی ہوں۔۔۔*!
نازش ہما قاسمی

  جی ہاں میں ہی سید محمد ولی رحمانی ہوں جو جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور امیر شریعت بہار واڈیشہ وجھارکھنڈ ہے۔ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جن کے والد کا نام سید منت اللہ رحمانی ہے جو بانی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ ہیں ۔ میرے دادا کا نام حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری ہیں جن کی مرہون منت ندوۃ العلما ہے۔ میری پیدائش پانچ جون 1943کو مونگیر میں ہوئی۔ میں نے اپنی تعلیم رحمانیہ اردو اسکول خانقاہ رحمانی ، جامعہ رحمانی مونگیر، ندوۃ العلما، دارالعلوم دیوبند اور تلکا مانجھی یونیورسٹی بھاگلپور سے حاصل کی۔ میں جیلانی سادات گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔ الحمدللہ ثم اللہ سید ہوں۔میرا سلسلہ نسب شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمہ سے 25واسطوں سے ملتا ہے۔ میرے آباء میں سے ابوبکر چرم پوش تقریباً ساڑھے تین سو سال قبل ملتان سے مظفر نگر یوپی کے کھتولی میں آکر قیام پذیر ہوئے اور یہیں سکونت اختیار کرلی۔ پھر میرے جدامجد سید شاہ غوث علی مظفر نگر سے کانپور منتقل ہوگئے اور وہاں بودو باش اختیار کی۔ کانپور میں ہی شاہ سید عبدالعلی علیہ الرحمہ کے یہاں تین شعبان المعظم 1224 مطابق 28 جولائی 1825 کو میرے دادا محترم سید محمد علی مونگیری کی پیدائش ہوئی۔ میرے دادا محترم نے بہت ا نقلابی اقدامات اُٹھائے۔ قادیانیوں کا مقابلہ کیا، ندوۃ العلما کی بنیاد ڈالی۔ مسیحیت کے خلاف محاذ آرائی کی۔ وہ ہمیشہ تہجد پڑھا کرتے تھے لیکن قادیانیوں سے مقابلہ کے لیے انہو ںنے اپنے تہجد کے وقت کو بھی فارغ کردیا تھا۔انہوں نے قادیانیت کی مکمل سرکوبی کے لیے خودکووقف کردیا،وہ اپنے مرشدحضرت شاہ فضل رحماںگنج مرادآبادیؒ کے حکم پربہار کے ضلع مونگیرآئے۔ندوۃ العلماء کے بعض اراکین کے سخت اختلافات سے دلبرداشتہ ہوکر انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔

    ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جن کے والد محترم سید منت اللہ رحمانی تھے جنہوں نے شریعت کے تحفظ کے لیے بے جگری سے ایسی تحریک چلائی کہ چند برسوں میں گائو ں دیہات تک یہ تحریک پہنچ گئی اور عوام وخاص نے ان کی صلاحیت کا لوہا مان لیا۔ان کاہی فرزندہوں جس نے شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنیؒ کے ساتھ جیل میں وقت گذارا۔ جی ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جو عظیم دادا، عظیم باپ کا عظیم بیٹا ہوں۔ ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جس نے والد بزرگوار کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حکومت کے طلاق ثلاثہ بل کے خلاف ایسی تحریک چلائی کہ قریہ قریہ، گائوں گائوں، شہر شہر، ہر خاص وعام مسلمان تک یہ بات پہنچ گئی ۔ وہ مسلمان جو بورڈ کو بھول چکے تھے دوبارہ سے جان گئے کہ کوئی تنظیم ہے جو مسلم پرسنل لا کی حفاظت کے لیے کام کررہی ہے اس تنظیم کا کوئی رہبر ہے جو ہمیں شریعت کی حفاظت کے لیے آواز دے رہا ہے لہذا اس کی آواز پر ہمیں نکلنا چاہئے اور دنیا نے دیکھ لیا صرف تین ماہ کی مدت میں پورے ہندوستان سے شریعت مخالف بل کے خلاف کروڑوں خواتین اسلام نے سڑکوں پر نکل کر حکومت وقت کو عندیہ دے دیا کہ شریعت ہماری، جان سے پیاری اس میں چھیڑ چھاڑ ہمیں برداشت نہیں۔اوردوسوریلیاں نہایت پرامن طریقے سے ہوئیں۔جی ہاں میں وہی سید محمد ولی رحمانی ہوں جو1972 سے 1995 تک مسلسل تئیس برس تک بہار قانون ساز کونسل کا رکن رہا۔ ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جس نے مدارس کی حفاظت کے لیے تحریک چلائی اور مونگیر میں تاریخ ساز ناموس اسلامیہ کنونشن منعقد کیا جس کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوئے۔ ہاں میں وہی سید محمد ولی رحمانی ہوں جس نے قوم کے ہونہار بچوں کے لیے رحمانی تھرٹی کا قیام عمل میں لایا تاکہ اس کے ذریعہ سے مسلم بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اونچے اونچے عہدوں پر فائز ہوسکیں،آئی آئی ٹی انجینئر،ڈاکٹر، جج بن سکیں ، وکیل بن سکیں، آئی پی ایس آفیسر بن سکیں۔ چارٹرڈ اکائونٹنٹ بن سکیں۔ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جس کے رحمانی تھرٹی نے کم ہی مدت میں بہترین نتائج پیش کیے اور ملک کو اعلیٰ ترین اورذہین وہونہار بچے دئیے جوآج جگہ جگہ اونچے اونچے مناصب پر براجمان ہوکر مسلمانوں کی رہنمائی کررہے ہیں۔
 
    ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جو بھارت جیوتی ایوارڈ، راجیو گاندھی ایکسلنس ایوارڈ ، سرسید ایوارڈ،سے سرفراز کیاجاچکا ہوں۔ ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جو کہنے کو تو صرف خانقاہی ہوں لیکن کبھی کبھی خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کرتا ہوں تاکہ لوگ مجھے سمجھ سکیں۔ مجھے جان سکیں۔ ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جسے آکسفورڈ یونیورسٹی نے تعلیم پراظہارخیال کے لے عالمی میٹ میں مدعوکیاتھا۔ ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جسے کولمبیا یونیورسٹی نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازاہے۔ ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جس کے استاد ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی بھی عظیم ہیں اور جس کا شاگرد خالد سیف اللہ رحمانی فقیہ عصر ہے۔
 
    ہاں ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں،جس نے سپریم کورٹ کے جج سے معافی منگوائی،منموہن سنگھ کے پاس پہونچ گیاکہ آپ پہلے اپنی داڑھی منڈوائیں،کیوں کہ سپریم کورٹ کے جج نے ایساکہاہے۔ میں وہی ولی رحمانی ہوں جس نے آرٹی ای ایکٹ جیسے خطرناک قانون میں تبدیلی کرائی۔اگروہ پاس ہوگیاہوتاتوآج بی جے پی، مدارس پربہت آسانی سے ہاتھ ڈال سکتی تھی۔ ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جس نے ڈائریکٹ ٹیکسزکوڈبل میں تبدیلی کروائی،مرکزی مدرسہ بورڈکے ذریعہ مدارس میں مداخلت کی کوشش کوروکا۔
 
    ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں جس نے آزاد ہند کے بعد سب سے بڑی ریلی امارت شرعیہ کے بینر تلے پٹنہ کے گاندھی میدان میں منعقد کرکے حکومت سے دو ٹوک سوال کیا اورخواتین کے تحفظ ،مسلمانوں کے تحفظ،ان کے استحصال، ہرمدعے پراسے گھیرا، مسلمانوں کی مضبوط آوازایوان اقتدارتک پہونچائی اوران لوگوں تک بھی پہونچائی جوستربرسوں سے مسلمانوں سے صرف ووٹ لیتے رہے۔ اس کی ناکامیوں کو گنوایا ، ملک اورآئین کے سیکولرزم کاواسطہ دیا، دلتوں کوبھی ساتھ لانے کی کوشش کی، ان کودرپیش خطرات سے آگاہ کیا۔ اس تاریخ ساز ریلی میں دس لاکھ سے زائد افراد نے میری آوازپرلبیک کہہ کر حکومت کو یہ واضح پیغام دے دیا کہ ہم اپنے امیر کی اطاعت پر ملک کی حفاظت اور شریعت کی حفاظت کریں گے۔جس طرح عظیم آباد میں دلت، مسلم اتحادکاعظیم نظارہ بی جے پی اورآرایس ایس کوبھانہیں رہاہے،اسی طرح کچھ ضمیرفروش ،جھوٹوں،الزام لگانے والوں اوربے شغل لوگوں کوبھی کامیابی راس نہیں آرہی ہے۔ریلی کی مخالفت توپہلے سے ہورہی تھی،بعدمیں بھی کرنی ہی تھی،چوں کہ ان کاپیشہ ہی یہی ہے۔یہ تاریخ ساز ریلی کی کامیابی لوگوں کو راس نہ آئی، اسے سبو تاژ کرنے کے لیے کارڈ کھیلنا شروع ہوگیا۔ مجھ پر الزامات عائد کیے گئے۔ اگر مجھے سفارش ہی کرنی ہوتی تو کیا میں ایم ایل سی کے لیے سفارش کرتا؟، یہ عہدے تو میری جوتیوں کی نوک پر ہمیشہ رکھے رہتے ہیں۔ولی رحمانی عہدوں کا بھوکا شخص نہیں ہے۔
 
    میں وہی ولی رحمانی ہوںجس نے وزیراعلیٰ کے عہدہ تک کولات ماراہے،ایسی خواہش ہوتی تووزیراعلیٰ بن جاتا،کانگریس کے ذریعہ پیش کردہ گورنراورمرکزی وزیرکے عہدوں کوٹھکرادیاہے۔اپنے سیاسی رسوخ کااستعمال ہمیشہ ملی مفادکے لیے کیا،کتنے بلوں پرسرکارکومجبورکیا،ابھی تازہ تازہ کانگریس اورسیکولرپارٹیوں کوراجیہ سبھامیں طلاق بل پرموقف بدلنے پراپنے ساتھیوں کے ساتھ مجبورکیا۔ کیامجھے ایم ایل سی بنوانے کے لیے ریلی کی ضرورت ہے؟۔ اس چھوٹے سے عہدے کے لیے میں بہار کے عوام کودھوکہ نہیں دے سکتا۔ کتنے میری سفارش پرمرکزی وزیربنے،کے رحمان خان کی مثال موجودہے ۔کتنوں کومیرے خط پرلوک سبھااورودھان سبھاکاٹکٹ ملا۔ایک اشارے پردرجنوں لیڈربن گئے ۔مجھے اس کے لیے ریلی کی کیاضرورت تھی؟ایک اشارہ کافی تھا اورنہ مجھے خودکسی عہدہ کی ضرورت ہے۔ میں خودتیئیس برس ایم ایل سی اورقانون سازکونسل کاڈپٹی چیئرمین رہ چکاہوں۔اب کون سا ایم ایل سی بنوں گا،اتنے اہم سیاسی عہدے ٹھکراچکاہوں،لالچ ہوتی توبہت کچھ بن چکاہوتا۔

     ہاں ہاں میں وہی محمدولی رحمانی ہوں جس نے مدرسہ شمس الہدیٰ کے صدسالہ اجلاس میں نتیش کمارکوکھری کھوٹی سنادیاتھااورحق بیانی سے وہاں بھی نہیں چوکا۔یہ بھی توسوچناچاہیے کہ نتیش سے میری بنتی بھی نہیں ہے ۔ویسے ایک بات پوچھوں؟ حیدرآبادمیںایک اہم تنظیم کی کانفرنس ہوئی،اسی دن تنظیم کے اسٹیٹ صدرکوایم ایل سی کاعہدہ دے دیاگیا۔اس وقت سودے بازی کی بات کیوں نہیں اٹھی؟ ۔ ایک بات اورپوچھتاہوں،ادارئہ شرعیہ کے بلیاوی جدیوسے ایم ایل سی ہیں،راجیہ سبھاایم پی بھی رہ چکے ہیں۔ادارئہ شرعیہ کواس میں سودے بازی کیوں نہیں نظرآتی ہے؟۔دہلی کے تال کٹورہ اسٹیڈیم میں علمائے مشائخ بورڈکے پروگرام کاافتتاح مودی جی نے کیا، اس وقت سنی بھائی کہاں سوئے ہوئے تھے؟۔اس میں سودے بازی نہیں تھی؟۔برانہ لگے توکچھ اورپوچھتاہوں۔ایک اورمشہورعالم کانگریس کے ٹکٹ پراٹھارہ سال ایم پی رہے،کیاانہوں نے بھی بابری مسجدکاسوداکرلیاتھا؟ ایک اورمولانااجیت سنگھ کے ٹکٹ پرراجیہ سبھاایم پی بنے،دوبارمودی جی اوردوبارراج ناتھ سنگھ سے ملاقات کرچکے ہیں، عید ملن میں بلایا،اب گھرپرجاکرملاقات کی ۔کیامیں ان لوگوں کوسوداگربول دوں؟۔نہیں ،نیت پرمیں شک نہیں کرتا،ان پرالزام نہیں لگاتا،کسی کاایم پی بننااورایم ایل سی بننااگرسودے بازی کامعیارہے توبس یوں ہی پوچھ لیا۔ناراض مت ہونا۔سودے بازی میری سرشت میں نہیں ہے۔جولوگ میرے آباواجداداورخودمیری تاریخ سے واقف ہیں،وہ کبھی ایساسوچ بھی نہیں سکتے۔ میرے دادااوروالدنے بھی پوری زندگی اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کردی اور میں بھی اپنے خاندانی مشن پر عمل پیرا ہوں اور ان شاء اللہ مرتے دم تک دین اسلام کی حفاظت کے کام کرتا رہوں گا یہی میری زندگی کا مقصد ہے۔جنہیں جتنی مخالفت کرنی ہے،کریں ،مجھے ٹٹ پونجیے سے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں جانتاہوں کہ وہ پیسے کے بھوکے ہیں،کتے کے آگے روٹی ڈال دو،وہ خاموش ہوجاتاہے۔لیکن میں چارہ ڈالوں گانہیں،بلیک میلروں کوپہچانتاہوںمیں ’’فلائیٹی بلیک میلرز‘‘ کی پرواہ نہیں کرتا۔ان کی اوقات ہی کیاہے؟جانتاہوں ۔ گدھے کوچھت پرچڑھانے سے وہ نقصان ہی پہونچاتاہے ۔وہ چھت بھی توڑتاہے ،خودبھی گرتاہے اوردوسروں کوبھی گراتاہے ۔
    ہاں میں وہی ولی رحمانی ہوں،جس کی ہرقدم پرمخالفت کی گئی لیکن اللہ نے ہردم عنایت کی۔جوکہناہے کہتے رہیں،جوگڑھناہے،گڑھتے رہیں،مجھے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔جرات وہمت اوربلندحوصلگی اورقوت فیصلہ میری پہچان ہے ،زبان وقلم کابادشاہ ہوں،بیسیوں کتابوں کامصنف ہوں،ہرایک میری قانونی موشگافیوں اورصلاحیتوں کامعترف ہے ۔مجھے عہدوں کی لالچ نہیں۔میرے پاس دولتوں کی کمی نہیں کہ میں کسی لالچ میں آکردین کا سودا کروں۔سیاسی عہدے میری جوتیوں کے نیچے ہیں ،وہ بھی ایم ایل سی کی کرسی دلوانے کے لیے میں کیسے پورے عوام کااعتمادمتزلزل کردوں۔طرح طرح کی بے بنیادباتیں گڑھی جارہی ہیں،لیکن خدادیکھ رہاہے،وہ دلوں کامالک ہے۔جس اخلاص کے ساتھ میں نے اتحادامت کی کوشش کی،ملک میں پہلی باردلت ،مسلم اتحادنے مسلمانوں کے وجودکاملک بھرکواحساس دلادیااورانہیں احساس کمتری اورخوف کی نفسیات سے باہرنکال دیا۔یہ خودایک بڑی کامیابی ہے،سوئی ہوئی قوم بیدارہوگئی۔ہربارمسلمان کسی نہ کسی پارٹی کاجھولااٹھاکرآتے تھے۔اس بارپہلی مرتبہ خوداپنے دم پرآئے اوردوسروں کوساتھ لے کرآئے۔دلتوں پرسیاست کرنے والوں کی نینداڑگئی۔ہندی اورانگریزی میڈیا تجزیہ کرنے پرمجبورہوگیا۔پورے ملک میں مسلمانوں کاوزن محسوس کیاگیا۔ یہ افواہیں دشمنوں کی بوکھلاہٹ ہے اورہر کامیاب انسان کے پیچھے دشمن ہواکرتے ہیں۔بھیڑچلتی ہے توکتے بھونکتے ہی ہیں۔جودلوں پر حکمرانی کرتاہو،اسے دنیاوی عہدوں کا شوق نہیں رہتا۔ ۔۔۔منکووووووول۔۔۔
*******************************

برادرم نازش ہما قاسمی صاحب
آپ کی یہ بر وقت تحریر جس کی نہ صرف توقع بلکہ مطالبہ تھا کہ منظر عام پر آئے اور کم ظرف لوگوں کو آئینہ دکھائے... الحمد للہ آپ نے امت کے اس مطالبے کو پورا کیا اور ہر زاویے سے مکمل اور مدلل گفتگو کی جس کی روشنی میں لوگ اپنے قائدین پر نہ صرف اعتماد کو باقی رکھیں گے بلکہ اپنی بے تکی باتوں اور گھٹیا الزام تراشی سے پہلے ہزار بار سوچیں گے.
میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں کس طرح آپ کا شکریہ ادا کروں...اللہ تعالی آپ کو دونوں جہاں میں کامیاب و کارمران کرے .... جزاک اللہ خیرا.

Friday 13 April 2018

Gazal : Dil me bbat chupa kar rakhna


غزل

دل میں بات چھپا کر رکھنا
کچھ جذ بات دبا کر رکھنا

خوابوں کی تعبیر کی خاطر
سارے خواب سجا کر رکھنا

نفرت کے تاریک جہاں میں 
پیار کی شمع جلا کر رکھنا 

بے باکی کے شیدائی ہو
رات کو رات بتا کر رکھنا 

پھونٹ ڈال کر ٹوٹ نہ جانا
سب کو ساتھ ملا کر رکھنا 

سودا مت کر لینا ہرگز
تم ایمان بچا کر رکھنا 

سکھ دکھ ساتھی ہیں جیون کے 
ان کو دل سے لگا کر رکھنا 

غیروں کو اپناؤ لیکن 
اپنوں کو اپنا کر رکھنا

محب اللہ رفیقؔ

Sunday 25 March 2018

Iman ki Lazzat



ایمان کی لذت

دنیا کی بہت ساری چیزوں میں جس طرح اللہ تعالی نے لذت رکھی ہے، جس کے جائز استعمال سے لوگ محظوظ ہوتے ہیں اور اس کی لذت سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالی نے ایمان جو انسان کی سب سے بڑی دولت ہے اور فلاح دارین کا ضامن ہے۔ اس میں بھی ایک خاص قسم کی لذت رکھی ہے ۔ جس کے نتیجے میں انسان دنیا کی تمام تر ابتلا وآزمائشوں کو برداشت کر لیتا ہے اور دنیا کی زندگی کو اطاعت الٰہی پر نچھاور کردینے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ مگر کس قسم کے صاحب ایمان اپنے ایمان کی لذت محسوس کرسکیں گے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ کے پیارے رسول محمد ﷺ نے فرمایا:

ذاق طعم الایمان من رضی باللہ رباً، و بالاسلام دیناً، و بمحمد رسولاً (مسلم)
’’اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھ لیا جو اللہ کو پروردگار مان کر ،اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی اور خوش ہوا۔ ‘‘
حضرت عباسؓ نے سے مروی مسلم شریف کی اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ تین صفات سے متصف لوگ ایمان کی لذت کو حاصل کرسکتے ہیں۔

پہلی صفت (من رضی باللہ رباً) اللہ تعالی کو رب مان کر راضی ہونا:
اس کا مطلب ہے کہ لفظ ’رب‘جو کہ وسیع مفہوم رکھتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالی کو پوری کائنات کا مالک ،سردار اور پالنہار ماننا۔ اس بات کا اعتراف کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اس کی پرورش نہیں کرسکتا ۔ کوئی اس کی ضرورت پوری کر سکتا ہے اورنہ اس کی نگہبانی کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے اگر عبادت کسی کی جاسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اللہ ہے کیوں کہ وہی رب العالمین ہے۔لفظ رب کا جائزہ لیا جائے تو قرآن کریم میں تقریباً 663 بار یہ لفظ آیا ہے۔قرآن کریم کے ذریعہ بیشتر دعائیں لفظ رب کے ساتھ مانگنے کی آئی ہیں،جن میں ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ کافی مشہور ہے۔اس کے علاوہ ہر نماز میں پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ کا آغاز ہی الحمدللہ رب العالمین سے ہوتا ہے اورتمام رکوع اور سجود میں متعدد بار ہم’ سبحان ربی العظیم ‘اور’ سبحان ربی الاعلیٰ‘ پڑھتے ہیں۔یہ سب اس لیے ہے تاکہ ہمارے دل و دماغ میں اللہ تعالی کے رب ہونے کا تصور باربار آتا رہے اور ہم ایمان کی لذت سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔

دوسری صفت (و بالاسلام دیناً) اسلام کو دین مان کر راضی ہونا:
اسلام کو دین مقبول ماننا اور اسے مکمل نظام حیات تسلیم کرتے ہوئے ،اس کے احکام کواپنی زندگی میں نافذ کرنا تاکہ رضائے الٰہی کے ساتھ دنیاوآخرت کی بھلائی حاصل ہو اوریہ خیال گندھے ہوئے آٹے سے بال کی طرح نکال دیں کہ ہم مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہیں اس لیے مسلمان ہیں بلکہ یہ تصورواضح رہے کہ اسلام ہمارا دین اور شریعت ہے۔ اسی لیے اس دین میں کسی قسم کی مداخلت برداشت نہیں اور اس دین کے علاوہ کوئی مذہب کوئی طریقہ قابل قبول نہیں،اللہ تعالی کا فرمان ہے: (ان الدین عنداللہ الاسلام) یقیناًاللہ تعالی کے نزدیک قابل قبول دین صرف اور صرف اسلام ہے۔

تیسری صفت:و بمحمد رسولا (محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی ہونا)
صحابہ کرامؓ نے اپنے مابین پیدا ہونے والی اس عظیم المرتبت شخصیت جسے اللہ نے اپنا برگزیدہ پیغمبر بنا کر دنیا میں انسانوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا، انھیں اللہ تعالی کا رسول مانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ ہر وقت آپؐ پر جان چھڑکنے کے لیے تیار رہتے تھے ۔ہر مومن کا محمدؐ سے آج بھی والہانہ تعلق اور عقیدت ہے، جو ایمان کی بنیاد ہے۔کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کو معبود ماننے کے ساتھ محمد ؐ کو اللہ تعالی کا آخری پیغمبر اور رسول نہ تسلیم کرلے۔محمد ؐ کو اللہ کا رسول مان کر ان کی اطاعت کرنا درحقیقت اطاعت الٰہی ہے۔اس لیے کہ اللہ تعالی کی اطاعت اس وقت تک نامکمل ہے جب تک کہ اطاعت رسول ؐ نہ ہو۔ اطاعت کا یہ جذبہ محبت سے پیدا ہوتا ہے لہذا اللہ تعالی کے رسول محمد ﷺ سے محبت ایمان لازمی جزقراردیا گیا۔

درج بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی لذت کے لیے اللہ کو خالق و مالک ماننا اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرناضروری ہے اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ آپ ؐ سے محبت کی جائے، مومن کے لیے آپؐ کی ذات پاک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہو، آپ ؐ کی مکمل اقتدا کی جائے اور اسلام کو رسماً نہیں بلکہ اسے دین مان کر پوری زندگی میں نافذ کیاجائے۔ اسلام کی دعوت جسے لے کر آپؐ مبعوث ہوئے، اس کو عام کیاجائے۔

یہ وہ کیفیت ہے جس سے ایمان کی لذت حاصل ہوتی ہے اور وہی شخص قبر میں فرشتوں کے ذریعہ پوچھے جانے والے تین سوالوں (تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ اور اس آدمی (محمدؐ) کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟) کا جواب دے سکے گا جو دنیا میں اللہ کو پروردگار مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد ﷺ کو رسول مان کر راضی اور خوش رہاہوگا۔ کما قال علیہ الصلوۃ والسلام
محب اللہ قاسمی



Turky & Sirya Zalzala

 ترکی و شام میں زلزلے کی تباہ کاری اور انسانیت کی ذمہ داری محب اللہ قاسمی انسان جس کی فطرت کا خاصہ انس ومحبت ہے ۔ اس لیے اس کا ضمیر اسے باہم...