Saturday, 17 June 2017

Hamd Bari Tala



حمد

                      محب اللہ رفیق
دل بنانے والے تو نے ضبط بخشا ہے مجھے
یہ ترا مجھ پر کرم محسوس ہوتا ہے مجھے

تیرے در کو چھوڑ کر جاؤں کہاں میرے کریم
یہ زمانہ اب ترا درویش کہتا ہے مجھے

غم کا بادل سر پہ ہے اور،  راہ بھی ہے پر خطر
بس سہارا ہی ترا منزل دکھاتا ہے مجھے

کچھ نہیں جھولی میں میری صاف ہے فرد عمل
اجر کے قابل تو بس تونے ہی سمجھا ہے مجھے

سوچتا ہوں میں یہ اکثر بعد از حمد و ثنا
کون اپنی حمد کی توفیق دیتا ہے مجھے

ہے پریشانی میں آسانی نہ گھبرا اے رفیقؔ
یہ کلام کبریا مژدہ سناتا ہے مجھے


No comments:

Post a Comment

Ghazal: Dar se Bedar kiya to mai Mar jaunga

 غزل  میرے محسن بتا میں کدھر جاؤں گا  در سے بے در کیا تو میں مر جاؤں گا  نازکی میں نہیں ہے یہ شیشے سے کم دل جو توڑا مرا تو بکھر جاؤں گا جب ع...