غزل
جس دل میں بھی ہو جذبہ ایمان و شہادت کا
پھر خوف بھلا
کیا ہو دشمن کی عداوت کا
آگے کبھی
باطل کے سرحق کا جھکے کیسے
انجام ہو چاہے
کچھ باطل سے بغاوت کا
دشمن تو ہمارے
سب ہیں شیر و شکر دیکھو
اب چھوڑ بھی
دو قصہ آپس کی عداوت کا
اللہ کی مرضی
کو ترجیح دو خواہش پر
احساس تمھیں
ہوگا ایماں کی حلاوت کا
تعلیم نبوت
میں شامل ہے اخوت بھی
پیکر تو بنو
لوگو الفت کا محبت کا
محب اللہ رفیقؔ
No comments:
Post a Comment